ابنا: بدھ کو اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق، بوسٹن یونیورسٹی میں انسانی حقوق، صحت کے قوانین اور اخلاقیات کے شعبوں کے ماہرین نے امریکہ کے سب سے زیادہ مشہور میڈیکل جرنل، نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ایک مختار شخص کو زبردستی کھانا کھلانے کے لئے مجبور کرنا طبی پریکٹس کے زمرے میں نہیں آتا ہے بلکہ یہ ایک جارحانہ حملہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اخلاقی اعتبار سے ڈاکٹر کسی بھی مختار اور قادر شخص کو زبردستی کھانا نہیں کھلا سکتے، لیکن وہ بھوک ہڑتال کے لئے فائدہ مند طبی سہولیات فراہم کر سکتے ہیں اور ہڑتالیوں کی نگرانی کر سکتے ہیں۔ نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن کے مدیر نے کیوبا میں امریکی فوجی اڈے میں واقع اس بدنام جیل میں امریکی پالیسیوں اور انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف اپنے نظریات رکھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ ڈاکٹروں کو مدعو کیا ہے۔ یاد رہے کہ حالیہ مہینوں میں بھوک ہڑتال کرنے والے قیدیوں کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے. فی الحال جیل میں 166 قیدیوں میں سے 104 بھوک ہڑتال پر ہیں، اور ان میں سے کم از کم 43 کو پائپ کے ذریعے زبردستی کھانا کھلایا جا رہا ہے، پائپ کو ان کی ناک کے ذریعے ان کے پیٹ میں داخل کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹروں نے امریکی فوجی حکام کے اس بیان کی مذمت کی ہے کہ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ قیدیوں کو زندہ رکھنے کے لیے زبردستی کھانا کھلانا ایک ضرورت ہے۔ ڈاکٹروں نے لکھا ہے کہ قید یا جیل کے حالات کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے بھوک ہڑتال کرنا ایک پرامن سیاسی قدم ہے، اور اس کا طبی عمل سے تعلق نہیں ہے۔......./169
12 جون 2013 - 19:30
News ID: 429346
ایک امریکی ڈاکٹر اور دو وکلاء نے بدنام زمانہ گوانتانامو جیل میں بھوک ہڑتال کرنے والے قیدیوں کو کھانا کھانے کے لیے مجبور کرنے اور انہیں زبردستی کھانا کھلانے کے سلسلے کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے امریکی حکام کے اس عمل کو طبی اخلاقیات پر ایک بد نما داغ قرار دیا ہے۔